تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاَلْ٘قٰىعَصَاهُفَاِذَاهِیَثُعْبَانٌمُّبِیْنٌ ﴾”پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا“ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فألقى} موسى {عصاه}: في الأرض، {فإذا هي ثعبانٌ مبينٌ}؛ أي: حية ظاهرةٌ تسعى وهم يشاهدونها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔