یہ بستیاں ہیں، ہم تجھ سے ان کے کچھ حالات بیان کر رہے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے، تو وہ ایسے نہ تھے کہ اس چیز کو مان لیتے جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرحاللہ کافروں کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے۔
En
یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے
ان بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے، پھر جس چیز کو انہوں نے ابتدا میں جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے، اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿تِلْكَالْ٘قُ٘رٰى ﴾”وہ بستیاں “ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿ نَقُ٘صُّعَلَیْكَمِنْاَنْۢبـَآىِٕهَا﴾”ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں “ جس سے عبرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لیے نصیحت ہے ﴿ وَلَقَدْجَآءَتْهُمْرُسُلُهُمْبِالْبَیِّنٰتِ﴾”اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کر دینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو تقویت بخشی۔ مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا، نہ ان کے کسی کام آئی۔
﴿ فَمَاكَانُوْالِیُؤْمِنُوْابِمَاكَذَّبُوْامِنْقَبْلُ ﴾”پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے“ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کر دینے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَنُقَلِّبُاَفْــِٕدَتَهُمْوَاَبْصَارَهُمْكَمَالَمْیُؤْمِنُوْابِهٖۤاَوَّلَمَرَّةٍوَّنَذَرُهُمْفِیْطُغْیَانِهِمْیَعْمَهُوْنَ﴾ (الانعام: 6؍110) ”ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔“﴿كَذٰلِكَیَطْبَعُاللّٰهُعَلٰىقُلُوْبِالْ٘كٰفِرِیْنَ ﴾”اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔“یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{تلك القرى}: الذين تقدَّم ذِكْرُهم، {نَقُصُّ عليك من أنبائها}: ما يحصُلُ به عبرة للمعتبرين، وازدجارٌ للظالمين، وموعظة للمتقين، {ولقد جاءتْهم رسُلُهم بالبيناتِ}؛ أي: [ولقد] جاءت هؤلاء المكذبين رسُلُهم تدعوهم إلى ما فيه سعادتهم، وأيَّدهم الله بالمعجزات الظاهرة والبيِّنات المبيِّنات للحقِّ بياناً كاملاً، ولكنهم لم يُفِدْهم هذا ولا أغنى عنهم شيئاً؛ {فما كانوا ليؤمِنوا بما كذَّبوا من قبلُ}؛ أي: بسبب تكذيبهم وردِّهم الحقّ أول مرة ما كان يهديهم للإيمان جزاءً لهم على ردِّهم الحق؛ كما قال تعالى: {ونقلِّبُ أفْئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمنوا به أولَ مرَّةٍ ونَذَرُهم في طغيانِهِم يعمَهونَ}، {كذلك يطبعُ الله على قلوب الكافرين}: عقوبةً منه، وما ظلمهم الله، ولكنهم ظلموا أنفسهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔