تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 48

وَ اِنَّہٗ لَتَذۡکِرَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور بے شک یہ (قرآن) ڈرنے والوں کے لیے یقینا ایک نصیحت ہے۔ En
اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے
En
یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنَّهٗ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْ٘مُتَّقِیْنَ۠ پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّه}؛ أي: القرآن الكريم، {لتذكرةٌ للمتَّقين}: يتذكَّرون به مصالح دينهم ودنياهم، فيعرفونها ويعملون عليها، يذكِّرهم العقائد الدينيَّة والأخلاق المرضيَّة والأحكام الشرعيَّة، فيكونون من العلماء الربانيِّين، والعباد العارفين، والأئمَّة المهديِّين.