تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 19

فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ فَیَقُوۡلُ ہَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾
سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا لو پکڑو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔ En
تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے
En
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا: ﴿ هَآؤُمُ اقْ٘رَءُوْا كِتٰبِیَهْ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰ٘قٍ حِسَابِیَهْ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهؤلاء هم أهل السعادة؛ يُعْطَوْن كُتُبهم التي فيها أعمالهم الصالحة بأيمانهم تمييزاً لهم وتنويهاً بشأنهم ورفعاً لمقدارهم، ويقول أحدُهم عند ذلك من الفرح والسرور ومحبَّة أن يطَّلع الخلق على ما منَّ الله عليه به من الكرامة: {هاؤمُ اقرؤوا كتابِيَهْ}؛ أي: دونكم كتابي فاقرؤوه؛ فإنَّه يبشِّر بالجنَّات وأنواع الكرامات ومغفرة الذُّنوب وستر العيوب، والذي أوصلني إلى هذه الحال ما منَّ الله به عليَّ من الإيمان بالبعث والحساب والاستعداد له بالممكن من العمل، ولهذا قال: {إنِّي ظننتُ أنِّي ملاقٍ حسابِيَهْ}؛ أي: أيقنتُ؛ فالظنُّ هنا بمعنى اليقين.