تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 1

اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾
وہ ہو کر رہنے والی۔ En
سچ مچ ہونے والی
En
ﺛابت ہونے والی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَلْحَآقَّةُ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلْحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الْحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الحاقَّة}: من أسماء يوم القيامة؛ لأنَّها تحقُّ وتنزل بالخلق وتظهر فيها حقائق الأمور ومخبآت الصدور؛ فعظَّم تعالى شأنها وفخَّمه بما كرَّره من قوله: {الحاقَّة. ما الحاقَّة. وما أدراك ما الحاقَّة}؛ فإنَّ لها شأناً عظيماً وهولاً جسيماً.

«ومن عظمتها أن الله أهلك الأمم المكذبة بها بالعذاب العاجل».