تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اخروی سعادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّلَكَلَاَجْرًا﴾”آپ کے لیے بہت بڑا اجر ہے“ جیسا کہ نکرہ سے مستفاد ہوتا ہے﴿ غَیْرَمَمْنُوْنٍ﴾ یعنی ایسا اجر جو کبھی منقطع نہیں ہوگا بلکہ دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس کا سبب وہ اعمال صالحہ، اخلاق کاملہ اور ہر بھلائی کی طرف وہ راہ نمائی وغیرہ ہے جو نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر سعادته في الآخرة، فقال: {وإنَّ لك لأجرًا غيرَ ممنونٍ}؛ أي: لأجراً عظيماً كما يفيده التنكير، غير مقطوع ، بل هو دائمٌ مستمرٌّ، وذلك لما أسلفه - صلى الله عليه وسلم - من الأعمال الصالحة والأخلاق الكاملة والهداية إلى كلِّ خير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔