تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 23

فَانۡطَلَقُوۡا وَ ہُمۡ یَتَخَافَتُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾
چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ En
تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
En
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَانْطَلَقُوْا پس وہ چل پڑے۔ باغ کا قصد کر کے ﴿ وَهُمْ یَتَخَافَتُوْنَ اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اللہ تعالیٰ کے حق سے ایک دوسرے کو روکتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ﴿ اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌ آج تمھارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے۔ یعنی لوگوں کے پھیلنے سے پہلے، صبح صبح گھروں سے نکل پڑو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فقراء اور مساکین کو محروم کرنے کے لیے باہم تلقین کرتے جا رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فانطلقوا}: قاصدين لها ، {وهم يتخافتونَ}: فيما بينهم بمنع حقِّ الله تعالى، ويقولون: {لا يَدْخُلَنَّها اليومَ عليكم مسكينٌ}؛ أي: بكِّروا قبل انتشار الناس، وتواصوا مع ذلك بمنع الفقراء والمساكين. ومن شدَّة حرصهم وبخلهم أنَّهم يتخافتون بهذا الكلام مخافتةً خوفاً أن يَسْمَعَهم أحدٌ فيخبر الفقراء.