تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 19

فَطَافَ عَلَیۡہَا طَآئِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ وَ ہُمۡ نَآئِمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔ En
سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی
En
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ پس تمھارے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پڑ گئی۔ یعنی ایک عذاب جو رات کے وقت اس باغ پر نازل ہوا ﴿ وَهُمْ نَآىِٕمُوْنَ اور وہ محو خواب تھے پس اس عذاب نے اسے تباہ و برباد کر دیا ﴿ فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِ پس وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔ یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیامیٹ ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فطاف عليها طائفٌ من ربِّك}؛ أي: عذابٌ نزل عليها ليلاً، {وهم نائمونَ}: فأبادها، وأتلفها، {فأصبحتْ كالصَّريم}؛ أي: كالليل المظلم، وذهبت الأشجار والثمار.