تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَطَافَعَلَیْهَاطَآىِٕفٌمِّنْرَّبِّكَ ﴾”پس تمھارے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پڑ گئی۔“ یعنی ایک عذاب جو رات کے وقت اس باغ پر نازل ہوا ﴿ وَهُمْنَآىِٕمُوْنَ ﴾”اور وہ محو خواب تھے“ پس اس عذاب نے اسے تباہ و برباد کر دیا ﴿ فَاَصْبَحَتْكَالصَّرِیْمِ﴾”پس وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔“ یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیامیٹ ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فطاف عليها طائفٌ من ربِّك}؛ أي: عذابٌ نزل عليها ليلاً، {وهم نائمونَ}: فأبادها، وأتلفها، {فأصبحتْ كالصَّريم}؛ أي: كالليل المظلم، وذهبت الأشجار والثمار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔