تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 1

نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
ن۔ قسم ہے قلم کی! اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں! En
نٓ۔ قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم
En
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ قلم کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے منثور اور منظوم کلام کواحاطہء تحریر میں لایا جاتا ہے۔ اور یہ اس حقیقت پر قسم ہے کہ قلم اور جو اس کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ان عیوب کے بارے میں براء ت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ سے نفی کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی ہیں اور دنیا کے اندر یہی سعادت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقسم تعالى بالقلم، وهو اسم جنس شامل للأقلام التي تُكْتَبُ بها أنواع العلوم، ويسطرُ بها المنثور والمنظوم ، وذلك أنَّ القلم وما يسطرُ به من أنواع الكلام من آياته - العظيمة، التي تستحقُّ أن يُقْسِمَ [اللَّهُ] بها على براءة نبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - مما نسبه إليه أعداؤه من الجنون؛ فنفى عنه ذلك بنعمةِ ربِّه عليه وإحسانه؛ حيث منَّ عليه بالعقل الكامل والرأي الجَزْل والكلام الفَصل، الذي هو أحسن ما جرت به الأقلام وسطره الأنام، وهذا هو السعادة في الدُّنيا.