تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 30

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ ﴿٪۳۰﴾
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا؟ En
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے) سوا کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے
En
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًؔا کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے۔ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَ٘مَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر عن انفراده بالنِّعم، خصوصاً الماء الذي جَعَلَ الله منه كلَّ شيءٍ حيٍّ، فقال: {قل أرأيتُم إن أصبحَ ماؤكم غَوْراً}؛ أي: غائراً، {فمن يأتيكم بماءٍ مَعينٍ}: تشربون منه وتسقونَ أنعامكم وأشجارَكم وزُروعكم؟ وهذا استفهامٌ بمعنى النفي؛ أي: لا يقدر أحدٌ على ذلك غير الله تعالى.