آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان المكذِّبون للرسول - صلى الله عليه وسلم - الذين يردُّون دعوته ينتظرون هلاكَه ويتربَّصون به ريب المنون؛ أمره الله أن يقولَ لهم: إنَّكم وإن حصلتْ لكم أمنيتُكم و {أهلكني الله ومن معي}: فليس ذلك بنافع لكم شيئاً؛ لأنَّكم كفرتم بآيات الله، واستحققتُم العذاب؛ فمن يجيرُكم {من عذابٍ أليم}: قد تحتَّم وقوعُه بكم؛ فإذاً تعبُكم وحرصُكم على هلاكي غير مفيدٍ ولا مجدٍ لكم شيئاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔