تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التحريم (66) — آیت 1

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ تَبۡتَغِیۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِکَ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱﴾
اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو؟ (کیا اس سے) اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَ٘بْتَغِیْ آپ چاہتے ہیں اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌؔ رَّحِیْمٌ اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا عتابٌ من الله لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - حين حرَّم على نفسه سُرِّيَّته مارية أو شُرْبَ العسل مراعاةً لخاطر بعض زوجاته في قصَّةٍ معروفة ، فأنزل الله [تعالى] هذه الآيات. {يا أيُّها النبيُّ}؛ أي: يا أيُّها الذي أنعم الله عليه بالنبوَّة والرسالة والوحي ، {لم تحرِّمُ ما أحلَّ الله لك}: من الطيِّبات التي أنعم الله بها عليك وعلى أمَّتك، {تبتغي}: بذلك التحريم {مرضاةَ أزواجِك واللهُ غفورٌ رحيمٌ}: هذا تصريحٌ بأنَّ الله قد غفر لرسوله ورفع عنه اللومَ ورحِمَه.