جو ایسا رسول ہے کہ تمھارے سامنے اللہ کی واضح بیان کرنے والی آیات پڑھتا ہے، تا کہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، بلاشبہ اللہ نے اس کے لیے اچھا رزق بنایا ہے۔
En
(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا ان کو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں ابد الاآباد ان میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے
(یعنی) رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں وه تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے، اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنْیُّؤْمِنْۢبِاللّٰهِوَیَعْمَلْصَالِحًا﴾”اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے۔“ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ یُّدْخِلْهُجَنّٰتٍتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُ﴾”اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔“ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِیْنَفِیْهَاۤاَبَدًا١ؕقَدْاَحْسَنَاللّٰهُلَهٗرِزْقًا﴾”وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكَّر عباده المؤمنين بما أنزل عليهم من كتابه الذي أنزله على رسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ ليخرج الخلق من ظُلُمات الجهل والكفر والمعصية إلى نور العلم والإيمان والطاعة؛ فمن الناس من آمن به، ومنهم مَنْ لم يؤمنْ به، {ومَن يؤمِن بالله ويعملْ صالحاً}: من الواجبات والمستحبَّات، {يُدْخِلْهُ جناتٍ تجري من تحتِها الأنهارُ}: فيها من النعيم المقيم ما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطر على قلبِ بشرٍ. {خالدين فيها أبداً قد أحسنَ اللهُ له رِزْقاً}؛ أي: ومن لم يؤمن بالله ورسوله؛ فأولئك أصحابُ النار هم فيها خالدون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔