تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصف (61) — آیت 10

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟ En
مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دے
En
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وه تجارت بتلا دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه وصيةٌ ودلالةٌ وإرشادٌ من أرحم الراحمين لعباده المؤمنين لأعظم تجارةٍ وأجلِّ مطلوب وأعلى مرغوبٍ يحصل بها النجاة من العذاب الأليم والفوز بالنعيم المقيم، وأتى بأداة العرض الدالَّة على أنَّ هذا أمرٌ يرغب فيه كلُّ متصبِّر ويسمو إليه كل لبيبٍ.