تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 88

ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾
یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقینا ان سے ضائع ہو جاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ En
یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے
En
اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَوْ اَشْرَؔكُوْا اگر یہ لوگ شرک کرتے یعنی بفرض محال ﴿ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تو ان کے عمل برباد ہو جاتے کیونکہ شرک تمام اعمال کو ساقط اور اکارت کر دیتا ہے اور جہنم میں خلود اور دوام کا موجب بنتا ہے۔ اگر یہ چنے ہوئے بہترین لوگ بھی شرک کرتے حالانکہ وہ اس سے پاک ہیں تو ان کے اعمال بھی اکارت ہو جاتے۔ دیگر لوگ تو اس جزا کے زیادہ مستحق ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك}: الهدى المذكور {هُدى الله}: الذي لا هدى إلا هداه. {يهدي به من يشاءُ من عبادِهِ}: فاطلبوا منه الهُدى؛ فإنّه إنْ لم يهدِكُم؛ فلا هادي لكم غيره، وممن شاء هدايته هؤلاء المذكورين. {ولو أشركوا}: على الفَرَض والتقدير، {لَحَبِطَ عنهم ما كانوا يعملون}: فإن الشرك محبطٌ للعمل موجبٌ للخلودِ في النار؛ فإذا كان هؤلاء الصفوة الأخيار لو أشركوا - وحاشاهم - لحبطتْ أعمالُهم؛ فغيرُهم أولى.