تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 83

وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۸۳﴾
اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی، ہم درجوں میں بلند کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
En
اور یہ ہماری حجت تھی وه ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں۔ بےشک آپ کا رب بڑا حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قطعی دلائل و براہین بیان کر کے جناب ابراہیم کے حق میں فیصلہ کر دیا تو فرمایا ﴿ وَتِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ اور یہ ہے ہماری دلیل، کہ دی تھی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو، اس کی قوم کے مقابلے میں یعنی ان دلائل و براہین کی مدد سے ابراہیم علیہ السلام نے ان کو نیچا دکھایا اور ان پر غالب آئے۔
﴿ نَرْفَ٘عُ دَرَجٰؔتٍ مَّنْ نَّؔشَآءُ ہم جس کے چاہتے ہیں، درجے بلند کرتے ہیں جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم کے دنیا و آخرت میں درجات بلند فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ علم کے ذریعے سے صاحب علم کو دوسرے بندوں پر فوقیت عطا کرتا ہے.... خاص طور پر وہ عالم جو صاحب عمل بھی ہے اور معلم بھی۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے حسب حال اسے لوگوں کا امام بنا دیتا ہے۔ اس کے افعال کو دیکھا جاتا ہے، اس کے آثار کی پیروی کی جاتی ہے، اس کے نور سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے علم کی مدد سے تیرہ و تار تاریکیوں میں رواں دواں رہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ یَرْفَ٘عِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰؔتٍ (المجادلۃ: 58؍11) تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیا گیا، اللہ ان کے درجات بلند کرتا ہے۔﴿اِنَّ رَبَّ٘كَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ بے شک تمھارا رب دانا، علم والا ہے۔ اس لیے وہ علم و حکمت کو ان کے شایان شان مقام پر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مقام کو اور جو کچھ اس کے لیے مناسب ہے خوب جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما حكم لإبراهيم عليه السلام بما بيَّن به من البراهين القاطعة قال: {وتلكَ حُجَّتُنا آتَيْناها إبراهيمَ على قومِهِ}؛ أي: علا بها عليهم وفلجهم بها. {نرفعُ درجاتٍ من نشاءُ}: كما رفعنا درجاتِ إبراهيم عليه السلام في الدنيا والآخرة؛ فإنَّ العلم يرفعُ اللهُ به صاحِبَه فوق العباد درجاتٍ، خصوصاً العالم العامل المعلِّم؛ فإنه يجعلُه الله إماماً للناس بحسب حاله، تُرمق أفعالُهُ، وتُقتفى آثارُه، ويُستضاء بنوره، ويُمشى بعلمه في ظلمة ديجوره؛ قال تعالى: {يرفع اللهُ الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات}. {إنَّ ربَّك حكيمٌ عليمٌ}: فلا يضعُ العلم والحكمةَ إلاَّ في المحلِّ اللائق بها، وهو أعلم بذلك المحلِّ، وبما ينبغي له.