اور ان لوگوں کو چھوڑ دے جنھوں نے اپنے دین کو کھیل اور دل لگی بنا لیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا اور اس کے ساتھ نصیحت کر کہ کہیں کوئی جان اس کے بدلے ہلاکت میں (نہ) ڈال دی جائے جو اس نے کمایا، اس کے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی مدد گار ہو اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ فدیہ دے، ہر فدیہ، تو اس سے نہ لیا جائے، یہی لوگ ہیں جو ہلاکت کے سپرد کیے گئے، اس کے بدلے جو انھوں نے کمایا، ان کے لیے گرم پانی سے پینا اور درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے۔
En
اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے
اور ایسے لوگوں سے بالکل کناره کش رہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے اور اس قرآن کے ذریعہ سے نصیحت بھی کرتے رہیں تاکہ کوئی شخص اپنے کردار کے سبب (اس طرح) نہ پھنس جائے کہ کوئی غیر اللہ اس کا نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی اور یہ کیفیت ہو کہ اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تب بھی اس سے نہ لیا جائے۔ ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے، ان کے لئے نہایت تیز گرم پانی پینے کے لئے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کریں، یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہو گیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہو گیا جو اس کے لیے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لیے ہو تو وہ لہو و لعب ہے.... تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکے میں نہ آئے۔
﴿ وَذَكِّ٘رْبِهٖۤ﴾”اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں۔“ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لیے نفع مند ہے قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لیے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کا گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔
﴿ لَ٘یْسَلَهَامِنْدُوْنِاللّٰهِوَلِیٌّوَّلَاشَ٘فِیْعٌ ﴾”نہیں ہو گا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی“ یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کر لینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہو گا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہو گا ﴿ وَاِنْتَعْدِلْكُ٘لَّ٘عَدْلٍ ﴾”اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔“ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو ﴿ لَّایُؤْخَذْمِنْهَا ﴾”وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔“ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں ﴿ الَّذِیْنَاُبْسِلُوْا ﴾”جنھیں ہلاک کردیا گیا۔“ یعنی ان کو ہلاک کر دیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہو گئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے ﴿لَهُمْشَرَابٌمِّنْحَمِیْمٍ ﴾”ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہو گا“ جو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ﴿ وَّعَذَابٌاَلِیْمٌۢبِمَاكَانُوْایَكْ٘فُرُوْنَ ﴾”اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المقصود من العباد أن يُخْلِصوا لله الدين بأن يعبُدوه وحدَه لا شريك له ويبذُلوا مقدورَهم في مرضاتِهِ ومَحَابِّه، وذلك متضمِّن لإقبال القلب على الله وتوجُّهه إليه وكون سعي العبد نافعاً، وجِدًّا لا هزلاً، وإخلاصاً لوجه الله لا رياء وسمعة، هذا هو الدين الحقيقي الذي يُقالُ له: دينٌ، فأما من زعم أنه على الحقِّ، وأنه صاحب دين وتقوى، وقد اتَّخذ دينه لعباً ولهواً؛ بأنْ لَهَا قلبُهُ عن محبة الله ومعرفته، وأقبل على كلِّ ما يضرُّه، ولَهَا في باطله، ولعب فيه ببدنِهِ؛ لأن العمل والسعي إذا كان لغير الله؛ فهو لعبٌ؛ فهذا أمر الله تعالى أن يُتْرَكَ ويحذرَ ولا يغترَّ به، وتنظر حاله، ويحذر من أفعاله ، ولا يغتر بتعويقه عما يقرب إلى الله.
{وذكِّر به}؛ أي: ذكِّر بالقرآن ما ينفع العباد أمراً وتفصيلاً وتحسيناً له بذكر ما فيه من أوصاف الحسن، وما يضرُّ العباد نهياً عنه وتفصيلاً لأنواعه وبيان ما فيه من الأوصاف القبيحة الشنيعة الداعية لتركِهِ، وكلُّ هذا لئلا تُبْسَلَ نفسٌ بما كَسَبَتْ؛ أي: قبل اقتحام العبد للذنوب وتجرُّئِهِ على علاَّم الغيوب واستمراره على ذلك المرهوب؛ فذكِّرْها وَعِظْهَا لترتدعَ وتنزجرَ وتكفَّ عن فعلها.
وقوله: {ليس لها من دونِ الله وليٌّ ولا شفيعٌ}؛ أي: قبل أن تحيطَ بها ذنوبُها ثم لا ينفعُها أحدٌ من الخلق لا قريبٌ ولا صديقٌ ولا يتولاَّها من دون الله أحدٌ ولا يشفع لها شافعٌ. {وإن تَعْدِلْ كلَّ عَدْل}؛ أي: تفتدي بكل فداءٍ ولو بملء الأرض ذهباً {لا يُؤْخَذْ منها}؛ أي: لا يُقبل ولا يُفيد. {أولئك}: الموصوفون بما ذُكِرَ {الذين أُبْسِلوا}؛ أي: أهلِكوا وأيسوا من الخير، وذلك {بما كَسَبوا لهم شرابٌ من حميم}؛ أي: ماء حارٌّ قد انتهى حرُّه يَشْوي وجوههم ويقطع أمعاءهم {وعذابٌ أليمٌ بما كانوا يكفرون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔