تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 60

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبۡعَثُکُمۡ فِیۡہِ لِیُقۡضٰۤی اَجَلٌ مُّسَمًّی ۚ ثُمَّ اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا، پھر وہ تمھیں اس میں اٹھا دیتا ہے، تاکہ مقرر مدت پوری کی جائے، پھر اسی کی طرف تمھارا لوٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ En
اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا
En
اور وه ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو (ایک گونہ) قبض کردیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر تم کو جگا اٹھاتا ہے تاکہ میعاد معین تمام کر دی جائے پھر اسی کی طرف تم کو جانا ہے پھر تم کو بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انھیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہو جاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان میں اسی طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لیتے ہیں۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ پھر اس کی طرف ہی تمھارا لوٹنا ہے اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے ﴿ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ پھر وہ تم کو تمھارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأخبر أنه وحده المتفرِّدُ بتدبير عباده في يقظتهم ومنامهم، وأنه يتوفَّاهم بالليل وفاة النوم، فتهدأ حركاتهم وتستريح أبدانهم، ويبعثهم في اليقظة من نومهم؛ ليتصرَّفوا في مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، وهو تعالى يعلم ما جَرَحوا وما كَسَبوا من تلك الأعمال، ثم لا يزال تعالى هكذا يتصرَّف فيهم حتى يستوفوا آجالهم، فيَقضي بهذا التدبير أجلٌ مسمّى، وهو أجل الحياة، وأجل آخر فيما بعد ذلك، وهو البعث بعد الموت، ولهذا قال: {ثم إليه مرجِعُكم}: لا إلى غيره، {ثم ينبِّئكُم بما كنتم تعملون}: من خير وشر.