کہہ دے اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جو تم جلدی مانگ رہے ہو تو میرے درمیان اور تمھارے درمیان معاملے کا ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور اللہ ظالموں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
En
کہہ دو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وه چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو تو میرا اور تمہارا باہمی قصہٴ فیصل ہوچکا ہوتا اور ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْ ﴾ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت، عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ﴿ لَّوْاَنَّعِنْدِیْمَاتَسْتَعْجِلُوْنَ۠بِهٖلَ٘قُ٘ضِیَالْاَمْرُبَیْنِیْوَبَیْنَكُمْ ﴾”اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہو چکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمھارے درمیان“ پس میں تم پر عذاب واقع کر دیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمھارے لیے بھلائی نہیں۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ اختیار میں ہے جو نہایت بردبار اور صبر کرنے والا ہے، نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأ ت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے ﴿ وَاللّٰهُاَعْلَمُبِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے“ ان کے احوال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل} للمستعجلين بالعذاب جهلاً وعناداً وظلماً: {لو أنَّ عندي ما تستعجلونَ به لَقُضِيَ الأمرُ بيني وبينكم}: فأوقعتُه بكم، ولا خير لكم في ذلك، ولكنَّ الأمر عند الحليم الصبور الذي يعصيه العاصون ويتجرَّأ عليه المتجرِّئون وهو يعافيهم ويرزقُهم ويسدي عليهم نعمه الظاهرة والباطنة. {والله أعلم بالظالمين}: لا يخفى عليه من أحوالهم شيءٌ فيمهِلُهم ولا يهمِلُهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔