تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 55

وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۵۵﴾
اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ خوب واضح ہوجائے۔ En
اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے
En
اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ﻇاہر ہوجائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَؔكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ یعنی اسی طرح ہم اپنی آیات کو واضح کرتے ہیں، گمراہی میں سے ہدایت کے راستے کو ممیز کرتے ہیں، رشد و ہدایت اور ضلالت میں فرق کرتے ہیں تاکہ راہ ہدایت پر چلنے والے ہدایت پا لیں تاکہ حق کا راستہ عیاں ہوجائے جس پر گامزن ہونا چاہیے۔
﴿ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچاتا ہے۔ کیونکہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر اور صاف واضح ہو جاتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس سے دور رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر راستہ مشتبہ اور غیر واضح ہو تو یہ مقصد جلیل حاصل نہیں ہو سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكذلك نفصِّلُ الآياتِ}؛ أي: نوضِّحها ونبيِّنها ونميِّز بين طريق الهدى من الضلال والغي والرشاد؛ ليهتديَ بذلك المهتدون ويتبيَّن الحقُّ الذي ينبغي سلوكه. {ولتستبينَ سبيلُ المجرمين}: الموصلةُ إلى سَخَطِ الله وعذابه؛ فإنَّ سبيل المجرمين إذا استبانت واتَّضحت؛ أمكنَ اجتنابُها والبعدُ منها؛ بخلاف ما لو كانت مشتبهةً ملتبسةً؛ فإنه لا يحصُلُ هذا المقصود الجليل.