اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟
En
اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟
اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں، کیا یہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے۔ کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو خوب جانتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَؔكَذٰلِكَفَتَنَّابَعْضَهُمْبِبَعْضٍلِّیَقُوْلُوْۤااَهٰۤؤُلَآءِمَنَّاللّٰهُعَلَیْهِمْمِّنْۢبَیْنِنَا ﴾”اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض لوگوں کو بعضوں سے تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟“ یعنی یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے کہ اس نے بعض کو خوشحال بنایا اور بعض کو محتاج اور تنگ دست پیدا کیا، بعض کو صاحب شرف پیدا کیا بعض کو گھٹیا اور کم تر۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی نادار اور کم تر شخص کو ایمان عطا کر کے اس پر احسان کرتا ہے تو یہ چیز خوشحالی اور بلند مرتبہ شخص کے لیے امتحان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر اس کا مقصد اتباع حق ہے تو وہ ایمان لا کر مسلمان ہو جاتا ہے اور اسے ایمان لانے سے اس شخص کی مشارکت نہیں روک سکتی جس کو وہ مال و دولت اور جاہ و مرتبہ میں اپنے سے کم تر خیال کرتا ہے۔ اگر وہ طلب حق میں سچا نہیں تو یہ وہ گھاٹی ہے جو اسے اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ جن کو وہ اپنے آپ سے کم تر خیال کرتے ہیں ان کو حقیر گردانتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِمَنَّاللّٰهُعَلَیْهِمْمِّنْۢبَیْنِنَا ﴾”کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟“ اسی چیز نے ان کی عدم طہارت کے باعث ان کو اتباع حق سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کلام کا جو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کو متضمن ہے کہ اس نے ان کو ہدایت سے نواز دیا اور ان کو محروم کر دیا۔۔۔ جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَ٘یْسَاللّٰهُبِاَعْلَمَبِالشّٰكِرِیْنَ ﴾”کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو“ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل صالح کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ایسے ہی کو اپنے فضل و احسان سے نوازتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے کسی ایسے شخص کو نہیں نوازتا جو اس کا اہل نہ ہو اور یہ معترضین اسی وصف کے مالک ہیں۔ اس کے برعکس جن فقرا کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار لوگ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكذلك فَتَنَّا بعضَهم ببعضٍ ليقولوا أهؤلاءِ مَنَّ الله عليهم من بيننا}؛ أي: هذا من ابتلاء الله لعبادِهِ حيث جعل بعضَهم غنيًّا وبعضهم فقيراً وبعضهم شريفاً وبعضهم وضيعاً؛ فإذا مَنَّ الله بالإيمان على الفقير أو الوضيع، كان ذلك محلَّ محنةٍ للغني والشريف؛ فإنْ كان قصدُهُ الحقَّ واتباعه؛ آمن وأسلم ولم يمنعْه من ذلك مشاركة الذي يراه دونه بالغنى أو الشرف، وإن لم يكن صادقاً في طلب الحقِّ؛ كانت هذه عقبةً تردُّه عن اتِّباع الحق، وقالوا محتقرين لمن يَرَوْنَهم دونهم: {أهؤلاءِ مَنَّ الله عليهم من بيننا}: فمنعهم هذا من اتباع الحق لعدم زكائهم. قال الله مجيباً لكلامهم المتضمِّن الاعتراض على الله في هداية هؤلاء وعدم هدايتهم هم: {أليس اللهُ بأعلمَ بالشاكرينَ} الذين يعرِفون النعمةَ ويُقِرُّون بها ويقومون بما تقتضيه من العمل الصالح، فيضع فضلَه ومنَّته عليهم دون من ليس بشاكرٍ؛ فإنَّ الله تعالى حكيمٌ لا يضع فضله عند من ليس له بأهل، وهؤلاء المعترضون بهذا الوصف بخلاف مَنْ مَنَّ الله عليهم بالإيمان من الفقراء وغيرهم؛ فإنهم هم الشاكرون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔