تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 51

وَ اَنۡذِرۡ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرا جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، ان کے لیے اس کے سوا نہ کوئی مدد گار ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تاکہ وہ بچ جائیں۔ En
اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں
En
اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع، اس امید پر کہ وه ڈر جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔
﴿ لَ٘یْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِیٌّ وَّلَا شَ٘فِیْعٌ کوئی دوست اور نہ سفارشی یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ تاکہ وہ پرہیز گار بنیں۔ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا القرآن نذارةٌ للخلق كلِّهم، ولكن إنَّما ينتفع به {الذين يخافون أن يُحْشَروا إلى ربِّهم}؛ فهم متيقِّنون للانتقال من هذه الدار إلى دار القرار؛ فلذلك يستصحِبون ما ينفعهم ويَدَعون ما يضرُّهم. {ليس لهم من دونه}؛ أي: من دون الله {وليٌّ ولا شفيعٌ}؛ أي: لا من يتولى أمرهم فيحصِّلُ لهم المطلوب، ويدفعُ عنهم المحذور، ولا من يشفعُ لهم؛ لأن الخلق كلَّهم ليس لهم من الأمر شيء. {لعلهم يتَّقون}: الله بامتثال أوامرِهِ واجتنابِ نواهيه؛ فإنَّ الإنذار موجب لذلك وسبب من أسبابه.