اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو، کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں ماده؟ یا وہ (بچہ ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ یا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تمھیں اس کی وصیت کی تھی؟ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، تاکہ لوگوں کو کسی علم کے بغیر گمراہ کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم آپ کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماده کو؟ یا اس کو جس کو دونوں ماده پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کا حکم دیا؟ تو اس سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے، تاکہ لوگوں کو گمراه کرے یقیناً اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھلاتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿ اَمْكُنْتُمْشُهَدَآءَؔاِذْوَصّٰؔىكُمُاللّٰهُبِهٰذَا﴾”کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا“ یعنی تمھارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں، جس کی صداقت اور صحت کو پرکھنے کے لیے تمھارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ اور وہ ہے تمھارا یہ کہنا کہ ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح اس نے اپنے انبیا و مرسلین کی طرف وحی کی۔ بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیا و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں “ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْاَظْلَمُمِمَّنِافْتَرٰىعَلَىاللّٰهِكَذِبً٘الِّیُضِلَّالنَّاسَبِغَیْرِعِلْمٍ ﴾”پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے“ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَلَایَهْدِیالْقَوْمَالظّٰلِمِیْنَ﴾”اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر في الإبل والبقر مثل ذلك، فلما بيَّن بطلان قولهم وفساده؛ قال لهم قولاً لا حيلة لهم في الخروج من تَبِعَتِهِ إلا في اتباع شرع الله، {أم كنتُم شهداءَ إذ وصَّاكم اللهُ}؛ أي: لم يبق عليكم إلا دعوى لا سبيل لكم إلى صدقها وصحتها، وهي أن تقولوا: إن الله وصَّانا بذلك وأوحى إلينا كما أوحى إلى رسله، بل أوحى إلينا وحياً مخالفاً لما دعت إليه الرسل ونزلت به الكتب، وهذا افتراءٌ لا يجهلُه أحدٌ، ولهذا قال: {فمن أظلم ممَّنِ افترى على الله كذباً ليضلَّ الناس بغير علم}؛ أي: مع كذبه وافترائه على الله قصدُهُ بذلك [إضلال] عباد الله عن سبيل الله بغير بيِّنةٍ منه ولا برهانٍ ولا عقلٍ ولا نقلٍ. {إنَّ الله لا يهدي القوم الظالمين}: الذين لا إرادةَ لهم في غير الظلم والجور والافتراء على الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔