تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 142

وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَۃً وَّ فَرۡشًا ؕ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۴۲﴾ۙ
اور چوپاؤں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے (پیدا کیے)۔ کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں رزق دیا اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ En
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
En
اور مواشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے (پیدا کیے)، جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بلاشک وه تمہارا صریح دشمن ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّفَرْشًا اور پیدا کیے مویشی میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے باربرداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور باربرداری کے قابل نہیں ہوتے، مثلاً: ان چوپائیوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ پس یہ مویشی سواری اور باربرداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا۔ تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّ٘یْطٰ٘نِ کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے پس وہ تمھیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمھارا نقصان اور تمھاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} خلق وأنشأ {من الأنعام حَمُولةً وفَرْشاً}؛ أي: بعضها تحملون عليه وتركبونه، وبعضها لا تصلح للحمل والركوب عليها لِصغَرِها كالفُصلان ونحوها، وهي الفرش؛ فهي من جهة الحمل والركوب تنقسم إلى هذين القسمين. وأما من جهة الأكل وأنواع الانتفاع؛ فإنها كلها تؤكل وينتفع بها، ولهذا قال: {كُلوا ممَّا رَزَقَكُمُ الله ولا تتَّبِعوا خطواتِ الشيطانِ}؛ أي: طرقه وأعماله التي من جملتها أن تُحَرِّموا بعض ما رزقكم الله. {إنَّه لكم عدوٌّ مبينٌ}: فلا يأمركم إلا بما فيه مضرتكم وشقاؤكم الأبدي.