اور انھوں نے کہا جو ان چوپائوں کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری بیویوں پر حرام کیا ہوا ہے اور اگر وہ مردہ ہو تو وہ سب اس میں شریک ہیں۔ عنقریب وہ انھیں ان کے کہنے کی جزا دے گا۔ بے شک وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
اور وه کہتے ہیں کہ جو چیز ان مواشی کے پیٹ میں ہے وه خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ اور اگر وه مرده ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔ ابھی اللہ ان کو ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے بلاشبہ وه حکمت واﻻ ہے اور وه بڑا علم واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے: ﴿وَقَالُوْامَافِیْبُطُوْنِهٰؔذِهِالْاَنْعَامِخَالِصَةٌلِّذُكُوْرِنَا ﴾”جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے“ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌعَلٰۤىاَزْوَاجِنَا ﴾”اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔“ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَیَجْزِیْهِمْوَصْفَهُمْ ﴾”وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی“ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗحَكِیْمٌ ﴾”بے شک وہ حکمت والا ہے۔“ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِیْمٌ ﴾”جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن آرائهم السخيفة أنهم يجعلون بعض الأنعام ويعيِّنونها محرماً ما في بطنها على الإناث دون الذكور، فيقولون: {ما في بطونِ هذه الأنعام خالصةٌ لذكورنا}؛ أي: حلال لهم لا يشاركهم فيها النساء. {ومحرَّمٌ على أزواجنا}؛ أي: نسائنا، هذا إذا وُلِدَ حيًّا، وإن يكن ما في بطنها يولد ميتاً؛ فهم فيه شركاء؛ أي: فهو حلال للذكور والإناث. {سيَجْزيهم}: الله {وَصْفَهُمْ}: حيث وصفوا ما أحلَّه الله بأنه حرام، ووصفوا الحرام بالحلال، فناقضوا شرع الله وخالفوه ونسبوا ذلك إلى الله. {إنَّه حكيمٌ}؛ حيث أمهل لهم ومكَّنهم مما هم فيه من الضلال، {عليمٌ}: بهم لا تخفى عليه خافيةٌ، وهو تعالى يعلم بهم، وبما قالوه عليه، وافتَرَوْه وهو يعافيهم، ويرزقهم جل جلاله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔