تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل مزین کر دیا ہے، پھر ان کے رب ہی کی طرف ان کا لوٹنا ہے تو وہ انھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ En
اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے
En
اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وه براه جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے۔ پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وه ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی وه کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔
مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔
اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ينهى الله المؤمنين عن أمر كان جائزاً بل مشروعاً في الأصل، وهو سبُّ آلهة المشركين التي اتُّخذت أوثاناً وآلهة مع الله، التي يُتَقَرَّب إلى الله بإهانتها وسبها، ولكن لمَّا كان هذا السبُّ طريقاً إلى سبِّ المشركين لربِّ العالمين، الذي يجب تنزيه جنابه العظيم عن كل عيبٍ وآفةٍ وسبٍّ وقدح؛ نهى الله عن سبِّ آلهة المشركين؛ لأنهم يحمون لدينهم ويتعصَّبون له؛ لأن كلَّ أمة زين الله لهم عملهم فرأوه حسناً وذبوا عنه ودافعوا بكل طريق، حتى إنهم يسبُّون الله ربَّ العالمين الذي رسخت عظمتُهُ في قلوب الأبرار والفجار إذا سبَّ المسلمون آلهتهم، ولكن الخلقَ كلَّهم مرجعُهم ومآلُهم إلى الله يوم القيامة، يعرَضون عليه وتعرَضُ أعمالهم، فينبِّئهم بما كانوا يعملون من خيرٍ وشرٍّ.

وفي هذه الآية الكريمة دليلٌ للقاعدة الشرعيَّة، وهو أن الوسائل تُعتبر بالأمور التي توصِلُ إليها، وأن وسائل المحرم ـ ولو كانت جائزة ـ تكون محرمةً إذا كانت تفضي إلى الشرِّ.