تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 20

لَا یَسۡتَوِیۡۤ اَصۡحٰبُ النَّارِ وَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ؕ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
آگ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں، جو جنت والے ہیں، وہی اصل کامیاب ہیں۔ En
اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں۔ اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں
En
اہل نار اور اہل جنت (باہم) برابر نہیں۔ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں (اور جو اہل نار ہیں وه ناکام ہیں) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس کیا وہ شخص جو تقویٰ کی حفاظت کرتا ہے اور اس چیز پر نظر رکھتا ہے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجی ہے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ نعمتوں بھری جنت اور تکدر سے سلامت زندگی کا مستحق ہوا۔ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوا، اس نے اس کے حقوق فراموش کر دیے پس وہ دنیا میں بدبخت ٹھہرا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوا۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقینا نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ کامیاب ہیں اور دوسری قسم کے لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهل يستوي مَنْ حافظ على تقوى الله، ونظر لما قدَّم لغده فاستحقَّ جناتِ النعيم والعيش السليم مع الذين أنعم الله عليهم من النبيِّين والصدِّيقين والشُّهداء والصالحين، ومن غَفَل عن ذكره ونسي حقوقَه فشقي في الدُّنيا، واستحقَّ العذاب في الآخرة؛ فالأوَّلون هم الفائزون، والآخرون هم الخاسرون.