شیطان کے حال کی طرح، جب اس نے انسان سے کہا کفر کر، پھر جب وہ کفر کر چکا تو اس نے کہا بلاشبہ میں تجھ سے لاتعلق ہوں، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
En
منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِالشَّ٘یْطٰ٘نِاِذْقَالَلِلْاِنْسَانِاكْفُرْ﴾” شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔“ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَاِنِّیْبَرِیْٓءٌمِّؔنْكَاِنِّیْۤاَخَافُاللّٰهَرَبَّالْعٰلَمِیْنَ﴾”کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔“یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومَثَلُ هؤلاء المنافقين الذين غرُّوا إخوانهم من أهل الكتاب، {كمَثَل الشيطان إذ قال للإنسانِ اكْفُرْ}؛ أي: زيَّن له الكفر وحسَّنه ودعاه إليه، فلما اغتر به وكفر وحصل له الشقاء لم ينفعه الشيطان الذي تولاه ودعاه إلى ما دعاه إليه بل تبرَّأ منه، {وقال إني بريءٌ منك إني أخافُ اللهَ ربَّ العالمين}؛ أي: ليس لي قدرةٌ على دفع العذاب عنك، ولستُ بمغنٍ عنك مثقال ذرَّةٍ من الخير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔