تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 12

لَئِنۡ اُخۡرِجُوۡا لَا یَخۡرُجُوۡنَ مَعَہُمۡ ۚ وَ لَئِنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا یَنۡصُرُوۡنَہُمۡ ۚ وَ لَئِنۡ نَّصَرُوۡہُمۡ لَیُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲﴾
یقینا اگر انھیں نکالا گیا تو وہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور یقینا اگر ان سے جنگ کی گئی تو وہ ان کی مدد نہ کریں گے اور یقینا اگر انھوں نے ان کی مدد کی تو وہ ضرور بالضرور پیٹھیں پھیریں گے، پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے۔ En
اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی
En
اگر وه جلاوطن کیے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد (بھی) نہ کریں گے اور اگر (بالفرض) مدد پر آبھی گئے تو پیٹھ پھیر کر (بھاگ کھڑے) ہوں گے پھر مدد نہ کیے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ۠ اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنْ نَّ٘صَرُوْهُمْ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَیُوَلُّ٘نَّ الْاَدْبَ٘ارَؔ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا كذَّبهم الله بقوله الذي وُجِدَ مخبرُه كما أخبر به ووقع طِبْقَ ما قال، فقال: {لَئِنْ أخْرِجوا}؛ أي: من ديارهم جلاءً ونفياً {لا يخرُجون معهم}: لمحبَّتهم للأوطان، وعدم صبرهم على القتال، وعدم وفائهم بالوعد ، {ولَئِن قوتلوا لا يَنصُرونهم}: بل يستولي عليهم الجبنُ ويملكهم الفشل ويَخْذُلون إخوانَهم أحوج ما كانوا إليهم، {ولَئِن نَصَروهم}: على الفرض والتقدير ، {لَيُوَلُّنَّ الأدبارَ ثم لا يُنصرون}؛ أي: سيحصل منهم الإدبار عن القتال والنُّصرة، ولا يحصُل لهم نصرٌ من الله.