تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 1

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾
اللہ کا پاک ہونا بیان کیا ہر چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔ En
جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
En
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وه غالب باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فافتتح تعالى هذه السورة بالإخبار أنَّ جميع مَن في السماوات والأرض تسبِّح بحمد ربِّها وتنزِّهه عمَّا لا يليق بجلاله وتعبُدُه وتخضعُ لعظمتِهِ ؛ لأنه العزيز الذي قد قهر كلَّ شيء؛ فلا يمتنعُ عليه شيءٌ، ولا يستعصي عليه عسيرٌ ، الحكيم في خلقِه وأمرِه؛ فلا يخلُقُ شيئاً عبثاً، ولا يُشْرِّعُ ما لا مصلحة فيه، ولا يفعل إلا ما هو مقتضى حكمته.