تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَالْیَوْمَلَایُؤْخَذُمِنْكُمْفِدْیَةٌوَّلَامِنَالَّذِیْنَكَفَرُوْا﴾”لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔“ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاْوٰىكُمُالنَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِیَمَوْلٰىكُمْ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئْسَالْمَصِیْرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّامَنْخَفَّتْمَوَازِیْنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗهَاوِیَةٌؕ۰۰وَمَاۤاَدْرٰىكَمَاهِیَهْؕ۰۰نَارٌحَامِیَةٌ﴾ (القارعۃ:101؍8-11) ”اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فاليومَ لا يؤخَذُ منكم فديةٌ ولا من الذين كفروا}: ولو افتديتم بملء الأرض ذهباً ومثله معه؛ لما تقبل منكم. {مأواكُمُ النارُ}؛ أي: مستقرُّكم، {هي مولاكم}: التي تتولاَّكم وتضمُّكم إليها، {وبئس المصير}: النار؛ قال تعالى: {وأمَّا مَنْ خَفَّتْ موازينُه. فأمُّه هاويةٌ وما أدراك ما هيه. نارٌ حاميةٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔