تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَمَّاۤاِنْكَانَمِنْاَصْحٰؔبِالْیَمِیْنِ﴾”اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔“ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌلَّكَمِنْاَصْحٰؔبِالْیَمِیْنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {وأمَّا إن كان من أصحابِ اليمين}؛ وهم الذين أدَّوا الواجبات وتركوا المحرَّمات، وإن حَصَلَ منهم بعضُ التقصير في بعض الحقوق التي لا تُخِلُّ بإيمانهم وتوحيدهم، فيقالُ لأحدهم: {سلامٌ لك من أصحابِ اليمين}؛ أي: سلامٌ حاصلٌ لك من إخوانك أصحاب اليمين؛ أي: يسلِّمون عليه، ويحيُّونه عند وصوله إليهم ولقائهم له، أو يقال له: سلامٌ لك من الآفات والبليَّات والعذاب؛ لأنَّك من أصحاب اليمين، الذين سَلِموا من الموبقات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔