تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 86

فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾
سو اگر تم (کسی کے) محکوم نہیں تو کیوں نہیں۔ En
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو
En
پس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَوْلَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ۰۰ تَرْجِعُوْنَهَاۤ۠ پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اگر تم سچے ہو۔ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلولا إن كنتُم غير مَدينينَ}؛ أي: فهلاَّ إذ كنتُم تزعمون أنكم غير مبعوثين ولا محاسبين ومجازين، ترجعون الروح إلى بدنها {إن كنتُم صادقين}: وأنتم تقرُّون أنكم عاجزون عن ردِّها إلى موضعها؛ فحينئذٍ إمَّا أن تقرُّوا بالحقِّ الذي جاء به محمدٌ - صلى الله عليه وسلم -، وإمَّا أن تعانِدوا فتعلم حالكم وسوء مآلكم.