تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَوْلَاۤاِذَابَلَغَتِالْحُلْقُوْمَۙ۰۰وَاَنْتُمْحِیْنَىِٕذٍتَنْظُ٘رُوْنَۙ۰۰وَنَحْنُاَ٘قْ٘رَبُاِلَیْهِمِنْؔكُمْوَلٰكِنْلَّاتُ٘بْصِرُوْنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلولا إذا بلغتِ الحلقوم. وأنتُم حينئذٍ تنظرونَ. ونحنُ أقربُ إليه منكُم ولكن لا تُبْصِرونَ}؛ أي: فهلاَّ إذا بلغت الروحُ الحلقومَ، وأنتم تنظُرون المحتضر في هذه الحالة، والحال أنَّا نحن أقربُ إليه منكم بعلمنا وملائكتنا، ولكن لا تبصرون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔