تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 83

فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾
پھر کیوں نہیں کہ جب وہ (جان) حلق کو پہنچ جاتی ہے۔ En
بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے
En
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَوْلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ۰۰وَاَنْتُمْ حِیْنَىِٕذٍ تَنْظُ٘رُوْنَۙ۰۰وَنَحْنُ اَ٘قْ٘رَبُ اِلَیْهِ مِنْؔكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُ٘بْصِرُوْنَ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلولا إذا بلغتِ الحلقوم. وأنتُم حينئذٍ تنظرونَ. ونحنُ أقربُ إليه منكُم ولكن لا تُبْصِرونَ}؛ أي: فهلاَّ إذا بلغت الروحُ الحلقومَ، وأنتم تنظُرون المحتضر في هذه الحالة، والحال أنَّا نحن أقربُ إليه منكم بعلمنا وملائكتنا، ولكن لا تبصرون.