تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 75

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾
پس نہیں! میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں! En
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
En
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أقسم تعالى بالنُّجوم ومواقعها، أي: مساقطها في مغاربها وما يُحْدِثُ الله في تلك الأوقات من الحوادث الدالَّة على عظمته وكبريائه وتوحيده، ثم عظَّم هذا المقسم به، فقال: {وإنَّه لقسمٌ لو تعلمون عظيمٌ}، وإنَّما كان القسم عظيماً؛ لأنَّ في النجوم وجريانها وسقوطها عند مغاربها آياتٍ وعبراً لا يمكن حصرها.