تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 57

نَحۡنُ خَلَقۡنٰکُمۡ فَلَوۡ لَا تُصَدِّقُوۡنَ ﴿۵۷﴾
ہم نے ہی تمھیں پیدا کیا تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں مانتے؟ En
ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟
En
ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر الدليل العقليَّ على البعث، فقال: {نحن خَلَقْناكم فلولا تصدِّقونَ}؛ أي: نحن الذين أوجَدْناكم بعد أن لم تكونوا شيئاً مذكوراً من غير عجزٍ ولا تعبٍ، أفليس القادر على ذلك بقادرٍ على أن يُحيي الموتى؟ بلى إنَّه على كلِّ شيءٍ قديرٌ، ولهذا وبَّخهم على عدم تصديقهم بالبعث وهم يشاهدون ما هو أعظم منه وأبلغ.