تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الْهِیْمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمْ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ یَوْمَالدِّیْنِ﴾” قیامت کے دن۔“ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا:﴿ اِنَّالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِكَانَتْلَهُمْجَنّٰتُالْ٘فِرْدَوْسِنُزُلًاۙ۰۰خٰؔلِدِیْنَفِیْهَالَایَبْغُوْنَعَنْهَاحِوَلًا﴾ (الکہف: 18؍107، 108) ”بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأما شرابهم؛ فهو بئس الشرابُ، وهو أنهم يشربون على هذا الطعام من الماء الحميم الذي يغلي في البطون {شُرْبَ الهيم}: وهي الإبل العطاش ، التي قد اشتدَّ عَطَشها، أو أنَّ الهَيَم داءٌ يصيب الإبل لا تَرْوَى معه من شرب الماء. {هذا}: الطعام والشراب {نُزُلُهم}؛ أي: ضيافتهم {يومَ الدِّين}: وهي الضيافة التي قدَّموها لأنفسهم وآثروها على ضيافةِ الله لأوليائه؛ قال تعالى: {إنَّ الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ كانتْ لهم جنَّاتُ الفِرْدَوْسِ نُزُلاً. خالدين فيها لا يَبْغونَ عنها حِوَلاً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔