تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّاِنَّـكُمْاَیُّهَاالضَّآلُّوْنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الْمُكَذِّبُوْنَ۠﴾ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوْنَمِنْشَجَرٍمِّنْزَقُّوْمٍ﴾”تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔“ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوْنَمِنْهَاالْبُطُوْنَ﴾”اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔“ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم إنَّكم أيُّها الضالُّون}: عن طريق الهدى، التابعون لطريق الرَّدى، {المكذِّبون}: بالرسول - صلى الله عليه وسلم - وما جاء به من الحقِّ والوعد والوعيد، {لآكلون من شجرٍ من زَقومٍ}: وهو أقبح الأشجار وأخسُّها وأنتنُها ريحاً وأبشعها منظراً، {فمالِئونَ منها البطونَ}: والذي أوجب لهم أكلها مع ما هي عليه من الشناعة، الجوعُ المفرِطُ الذي يلتهبُ في أكبادِهم وتكادُ تنقطعُ منه أفئدتهم، هذا الطعام الذي يدفعون به الجوع، وهو الذي لا يسمِنُ ولا يُغْني من جوع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔