تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 1

اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
جب وہ واقع ہونے والی واقع ہو گی۔ En
جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے
En
جب قیامت قائم ہو جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَ٘یْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔
﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بحال الواقعة التي لا بدَّ من وقوعها، وهي القيامة، التي {ليس لوقعتها كاذِبةٌ}؛ أي: لا شكَّ فيها؛ لأنَّها قد تظاهرت عليها الأدلَّة العقليَّة والسمعيَّة، ودلَّت عليها حكمته تعالى {خافضةٌ رافعةٌ}؛ أي: خافضةٌ لأناس في أسفل سافلين، رافعةٌ لأناس في أعلى عليين، أو: خفضت بصوتها فأسمعت القريب، ورفعتْ فأسمعتِ البعيد.