تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فِیْهِنَّقٰصِرٰتُالطَّرْفِ﴾”ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔“ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمْیَطْمِثْ٘هُنَّاِنْ٘سٌقَبْلَهُمْوَلَاجَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّ٘هُنَّالْیَاقُوْتُوَالْ٘مَرْجَانُ﴾”گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔“ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فيهنَّ قاصراتُ الطرفِ}؛ أي: قد قصرنَ طرفهنَّ على أزواجهنَّ من حسنهم وجمالهم وكمال محبتهنَّ لهم، وقصرنَ أيضاً طرفَ أزواجهنَّ عليهنَّ من حسنهنَّ وجمالهنَّ ولَذَّةِ وصالهنَّ وشدَّة محبَّتهنَّ، {لم يطمثهنَّ إنسٌ قبلَهم ولا جانٌّ}؛ أي: لم ينلهنَّ أحدٌ قبلهم من الإنس والجنِّ، بل هنَّ أبكارٌ عربٌ متحبِّباتٌ إلى أزواجهنَّ؛ بحسن التبعُّل والتغنُّج والملاحة والدَّلال، ولهذا قال: {كأنهنَّ الياقوت والمرجان}، وذلك لصفائهنَّ وجمال منظرهنَّ وبهائهنَّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔