تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 56

فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۵۶﴾
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں، جنھیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جنّ نے۔ En
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
En
وہاں (شرمیلی) نیچی نگاه والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمْ یَطْمِثْ٘هُنَّ اِنْ٘سٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّ٘هُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْ٘مَرْجَانُ گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فيهنَّ قاصراتُ الطرفِ}؛ أي: قد قصرنَ طرفهنَّ على أزواجهنَّ من حسنهم وجمالهم وكمال محبتهنَّ لهم، وقصرنَ أيضاً طرفَ أزواجهنَّ عليهنَّ من حسنهنَّ وجمالهنَّ ولَذَّةِ وصالهنَّ وشدَّة محبَّتهنَّ، {لم يطمثهنَّ إنسٌ قبلَهم ولا جانٌّ}؛ أي: لم ينلهنَّ أحدٌ قبلهم من الإنس والجنِّ، بل هنَّ أبكارٌ عربٌ متحبِّباتٌ إلى أزواجهنَّ؛ بحسن التبعُّل والتغنُّج والملاحة والدَّلال، ولهذا قال: {كأنهنَّ الياقوت والمرجان}، وذلك لصفائهنَّ وجمال منظرهنَّ وبهائهنَّ.