تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 46

وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔ En
اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں
En
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وللذي خاف ربَّه وقيامه عليه، فترك ما نهى عنه، وفعل ما أمره به؛ له {جنَّتانِ} من ذهبٍ آنيتهما وحليتهما وبنيانهما وما فيهما، إحدى الجنتين جزاءً على ترك المنهيَّات، والأخرى على فعل الطَّاعات.