تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال هنا: {يُعْرَفُ المجرمون بسيماهم فيؤخَذُ بالنواصي والأقدام. فبأيِّ آلاءِ ربِّكما تكذِّبانِ}؛ أي: فيؤخذ بنواصي المجرمين وأقدامهم، فيُلْقَوْنَ في النار ويُسحبون إليها. وإنَّما يسألهم تعالى سؤال توبيخ وتقريرٍ بما وقع منهم، وهو أعلم به منهم، ولكنَّه تعالى يريد أن تَظْهَرَ للخلق حجَّته البالغة وحكمته الجليلة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔