تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 41

یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾
مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے، پھر پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔ En
گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے
En
گناه گار صرف حلیہ ہی سے پہچان لیے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال هنا: {يُعْرَفُ المجرمون بسيماهم فيؤخَذُ بالنواصي والأقدام. فبأيِّ آلاءِ ربِّكما تكذِّبانِ}؛ أي: فيؤخذ بنواصي المجرمين وأقدامهم، فيُلْقَوْنَ في النار ويُسحبون إليها. وإنَّما يسألهم تعالى سؤال توبيخ وتقريرٍ بما وقع منهم، وهو أعلم به منهم، ولكنَّه تعالى يريد أن تَظْهَرَ للخلق حجَّته البالغة وحكمته الجليلة.