تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 39

فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾
پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھا جائے گا اور نہ کسی جنّ سے۔ En
اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے
En
اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ یَّوْمَ تَ٘بْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ (آل عمران: 3؍106) اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فيومئذٍ لا يُسأل عن ذنبه إنسٌ ولا جانٌّ}؛ أي: سؤال استعلام بما وقع؛ لأنَّه تعالى عالم الغيب والشهادة والماضي والمستقبل، ويريد أن يجازي العباد بما علمه من أحوالهم، وقد جعل لأهل الخيرِ والشرِّ يوم القيامةِ علاماتٍ يُعرفون بها؛ كما قال تعالى: {يومَ تَبْيَضُّ وجوهٌ وتَسْوَدُّ وجوهٌ}.