تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ یَّوْمَتَ٘بْیَضُّوُجُوْهٌوَّتَسْوَدُّوُجُوْهٌ﴾ (آل عمران: 3؍106) ”اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فيومئذٍ لا يُسأل عن ذنبه إنسٌ ولا جانٌّ}؛ أي: سؤال استعلام بما وقع؛ لأنَّه تعالى عالم الغيب والشهادة والماضي والمستقبل، ويريد أن يجازي العباد بما علمه من أحوالهم، وقد جعل لأهل الخيرِ والشرِّ يوم القيامةِ علاماتٍ يُعرفون بها؛ كما قال تعالى: {يومَ تَبْيَضُّ وجوهٌ وتَسْوَدُّ وجوهٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔