تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاِذَاانْشَقَّتِالسَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتْ﴾”تو وہ ہوجائے گا۔“ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرْدَةًكَالدِّهَانِ﴾”سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل۔“ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإذا انشقَّتِ السماءُ}؛ أي: يوم القيامة من الأهوال وكثرة البلبال وترادُف الأوجال، فانخسفتْ شمسُها وقمرُها، وانتثرتْ نجومُها؛ {فكانت}: من شدَّة الخوفِ والانزعاج {وردةً كالدِّهانِ}؛ أي: كانت كالمهل والرصاص المذابِ ونحوه. {فبأيِّ آلاء ربِّكما تكذِّبان}؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔