تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 37

فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾
پھر جب آسمان پھٹ جائے گا، تو وہ سرخ چمڑے کی طرح گلابی ہو جائے گا۔ En
پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا
En
پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑه En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتْ تو وہ ہوجائے گا۔ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل۔ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإذا انشقَّتِ السماءُ}؛ أي: يوم القيامة من الأهوال وكثرة البلبال وترادُف الأوجال، فانخسفتْ شمسُها وقمرُها، وانتثرتْ نجومُها؛ {فكانت}: من شدَّة الخوفِ والانزعاج {وردةً كالدِّهانِ}؛ أي: كانت كالمهل والرصاص المذابِ ونحوه. {فبأيِّ آلاء ربِّكما تكذِّبان}؟!