تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 35

یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾
تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا، پھر تم اپنے آپ کو بچا نہیں سکو گے۔ En
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے
En
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ ﴿وَ نُحَاسٌ اور دھواں۔ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑی جائیں گی جو تمھیں گھیر لیں گی، پس تم خود مدد کر سکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمھاری مدد کر سکے گا۔ چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف، اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انھیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰ٘نِ پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {يرسَل عليكما} لهبٌ صافٍ من النار {ونحاسٌ} وهو اللهب الذي قد خالَطَه الدخانُ. والمعنى: أنَّ هذين الأمرين الفظيعين يرسلانِ عليكما [يا معشر الجن والإنس] ويحيطانِ بكما فلا تنتصران؛ لا بناصرٍ من أنفسكم، ولا بأحدٍ ينصُرُكم من دون الله. ولما كان تخويفُهُ لعباده نعمةً منه عليهم وسوطاً يسوقهم به إلى أعلى المطالب وأشرف المواهب؛ ذكر منَّته بذلك فقال: {فبأيِّ آلاءِ ربِّكما تكذِّبانِ}؟!