تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی زمین کی ہر چیز، انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہو جائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی ﴿ ذُوالْجَلٰ٘لِوَالْاِكْرَامِ﴾ جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا ہے اَلْإِکْرَام سے مراد بے پایاں فضل و جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء و خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیاء و خواص اس کی تکریم کرتے، اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿ فَبِاَیِّاٰلَآءِرَبِّكُمَاتُكَذِّبٰ٘نِ ﴾”پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: كلُّ مَن على الأرض من إنسٍ وجنٍّ ودوابٍّ وسائر المخلوقات يفنى [ويموت] ويبيد، ويبقى الحيُّ الذي لا يموت، {ذو الجلال والإكرام}؛ أي: ذو العظمة والكبرياء والمجد، الذي يعظَّم ويبجَّل ويجلُّ لأجله، والإكرام الذي هو سعة الفضل والجود، الذي يكرم أولياءه وخواصَّ خلقه بأنواع الإكرام، الذي يكرِمُه أولياؤه ويجلُّونه ويعظِّمونه ويحبُّونه وينيبون إليه ويعبدونه. {فبأيِّ آلاء ربِّكما تكذِّبانِ}؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔