تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَقَدْجَآءَاٰلَفِرْعَوْنَالنُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولقد جاء آلَ فرعونَ}؛ أي: فرعون وقومه، {النُّذُرُ}: فأرسل الله إليهم موسى الكليم، وأيَّده بالآيات البيِّنات والمعجزات الباهرات، وأشهدهم من العبر ما لم يشهدْ غيرهم ، فكذَّبوا بآيات الله كلِّها، فأخذهم أخذَ عزيزٍ مقتدرٍ، فأغرقه وجنوده في اليمِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔