تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 44

وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡیَا ﴿ۙ۴۴﴾
اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اسی نے موت دی اور زندگی بخشی۔ En
اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے
En
اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا یعنی وہ وجود میں لانے اور معدوم کرنے میں متفرد اور یکتا ہے جس نے مخلوق کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا کیے، وہی ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور دنیا کے اندر انھوں نے جو عمل کیے ہوں گے وہ انھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه هو أماتَ وأحيا}؛ أي: هو المنفرد بالإيجاد والإعدام، والذي أوجد الخلق وأمرهم ونهاهم، سيعيدُهم بعد موتهم، ويجازيهم بتلك الأعمال التي عملوها في دار الدُّنيا.