تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 31

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۙ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰی ﴿ۚ۳۱﴾
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی، اس کا بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی کے ساتھ بدلہ دے۔ En
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے
En
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اقتدار کا مالک ہے، دنیا و آخرت اسی اکیلے کی ملکیت ہے، دنیا و آخرت میں جو کچھ ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے عظیم بادشاہ اپنے غلاموں میں تصرف کرتا ہے، وہ ان پر اپنی قضا و قدر نافذ کرتا ہے، ان پر شرعی احکام جاری کرتا ہے، انھیں حکم دیتا ہے، انھیں منع کرتا ہے، اپنے اوامر و نواہی پر انھیں جزا و سزا دیتا ہے، پس اطاعت گزار کو ثواب عطا کرتا ہے اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے۔
﴿ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر اور اس سے کم تر گناہوں اور ان اعمالِ شر کا ارتکاب کیا، جزا کے طور پر بدترین سزا دے ﴿ وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا اور ان کو جزا سے سرفراز فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مختلف فوائد پہنچا کر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا ﴿ بِالْحُسْنٰى اچھائی کے ساتھ ان کو دنیا و آخرت میں، اچھی جزا سے سرفراز فرمائے۔ سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر جزا ان کے رب کی رضا، جنت اور اس کی نعمتوں سے فوز یابی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه مالك الملك، المتفرِّدُ بملك الدنيا والآخرة، وأنَّ جميع ما فيهما ملكٌ لله، يتصرَّف فيهم تصرُّف الملك العظيم في عبيده ومماليكه، ينفِّذ فيهم قدره، ويجري عليهم شرعَه، ويأمرهم وينهاهم، ويجزيهم على ما أمرهم به ونهاهم عنه، فيثيب المطيع ويعاقب العاصي، {لِيَجْزِيَ الذين أساؤوا} العمل من سيئات الكفر فما دونَه من المعاصي، وبما عملوه من أعمال الشرِّ بالعقوبة الفظيعة ، {ويجزِيَ الذين أحسنوا}: في عبادة الله، وأحسنوا إلى خلق الله بأنواع المنافع {بالحُسْنى}؛ أي: بالحالة الحسنة في الدُّنيا والآخرة، وأكبر ذلك وأجلُّه رضا ربِّهم والفوزُ بالجنة وما فيها من النعيم.