تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 26

وَ کَمۡ مِّنۡ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغۡنِیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ یَّاۡذَنَ اللّٰہُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡضٰی ﴿۲۶﴾
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور (جسے) پسند کرے۔ En
اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے
En
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جو لوگ فرشتوں اور دیگر ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ ہستیاں قیامت کے روز ان کی شفاعت کریں گی، اللہ تعالیٰ ان پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَؔكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ یعنی آسمانوں میں کتنے ہی اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم فرشتے ہیں ﴿ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْـًٔؔا جن کی شفاعت کچھ کام نہ آئے گی۔ یعنی جو کوئی اس شفاعت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے امید وابستہ کرتا ہے یہ شفاعت اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔ ﴿اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّ٘اْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَرْضٰى مگر بعد ازاں کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور پسند کرے۔ شفاعت کے لیے دو شرائط کا مجتمع ہونا ضروری ہے:
(۱) شفاعت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے۔
(۲) جس کی شفاعت جا ری رہی ہو، اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ہونا۔
یہ امر متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور صاحب شریعت علیہ السلام کے طریقے کے موافق ہو۔ چنانچہ مشرکین شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے بہرہ مند نہیں ہو سکیں گے کیونکہ انھوں نے خود ہی اپنے اوپر، سب سے رحیم ہستی کی رحمت کے دروازے بند کر لیے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى منكراً على مَن عَبَدَ غيره من الملائكة وغيرهم، وزعم أنَّها تنفعه وتشفع له عند الله يوم القيامةِ: {وكم من مَلَكٍ في السمواتِ}: من الملائكة المقرَّبين وكرام الملائكة، {لا تُغْني شفاعتُهم شيئاً}؛ أي: لا تفيد من دعاها وتعلَّق بها ورجاها، {إلاَّ من بعدِ أن يأذنَ الله لمن يشاءُ ويرضى}؛ أي: لا بدَّ من اجتماع الشرطين: إذنه تعالى في الشفاعة، ورضاه عن المشفوع له. ومن المعلوم المتقرِّر أنَّه لا يقبل من العمل إلاَّ ما كان خالصاً لوجه الله، موافقاً فيه صاحبُه الشريعةَ؛ فالمشركون إذاً لا نصيبَ لهم من شفاعة الشافعين؛ [وقد] سدُّوا على أنفسهم رحمة أرحم الراحمين.